1 اکتوبر 2015 - 14:43
علامہ ناصر عباس جعفری: حکومت پاکستان سعودی عرب میں اپنے حجاج کا مقدمہ لڑنے میں ناکام ہوچکی ہے،

مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک مل کر ایک تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل پر زور دیں، جو سانحہ منٰی کے تمام پہلووں کا جائزہ لے اور ان محرکات سے عالم اسلام کو آگاہ کیا جائے، جو اس اندوہ ناک سانحہ کے رونما ہونے کا باعث بنے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے علماء کے اعلٰی سطح وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ منٰی کا شکار ہونے والے پاکستانی حجاج سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں وزارت خارجہ اور وزارت مذہبی امور کو مکمل طور پر ناکامی کا سامنا ہے۔ اب تک نہ تو شہداء کے مکمل کوائف سامنے لائے جاسکے ہیں اور نہ ہی گمشدہ افراد کی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جو سینکڑوں خاندانوں کے لئے شدید اضطراب کا باعث ہے۔ حکومت پاکستان سعودی عرب میں اپنے حجاج کا مقدمہ لڑنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو سو سے زائد کیمیکل شدہ کنٹینرز میں ہزاروں لاشوں کو ڈال کر یہ جواز گھڑا گیا کہ لاشوں سے تعفن اور بیماریاں پھیلنے کا خدشہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کرام کی لاشوں کی اس طرح پامالی انسانیت کی بدترین توہین اور اسلامی تعلیمات کی صریحاََ نفی ہے۔ اس پر آواز بلند کرنا کسی مسلک یا نظریات کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاََ انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا مزید کہنا تھا کہ اس سانحہ پر عالم اسلام کو خاموش نہیں رہنا چاہیئے۔ ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دے کر اس باب کو بند نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی ممالک مل کر ایک تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل پر زور دیں جو اس سانحہ کے تمام پہلووں کا جائزہ لے اور ان محرکات سے عالم اسلام کو آگاہ کیا جائے جو اس اندوہ ناک سانحہ کے رونما ہونے کا باعث بنے۔

انہوں نے کہا امت مسلمہ کی سربلندی، بقا اور سلامتی اتحاد بین المسلمین میں مضمر ہے۔ اسلام دشمن عالمی قوتیں مسلمانوں سے دشمنی میں یکجا ہیں جبکہ امت مسلمہ منتشر اور تنزلی کا شکار ہے۔ اہل اسلام کو مسلک و مکتب کے حصار سے نکل کر اسلام کی حقیقی تعلیمات پر گامزن رہنے کی ضرورت ہے۔ نفاق و ناچاکی کو ترک کرکے بھائی چارے اور رواداری کے فروغ کے لئے علماء کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ دین اسلام علماء پر بہت ساری ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، ہمیں ان ذمہ داریوں کو نیک نیتی کے ساتھ ادا کرتے ہوئے ملک و قوم اور دین کی خدمت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علماء کو چاہیئے کہ وہ دین اسلام کی سربلندی اور وطن عزیز کی ترقی اور استحکام کو ہر شے پر مقدم رکھیں۔ حق کا ساتھ دینے اور باطل کی مخالفت پر اپنی پوری قوت کے ساتھ ڈٹے رہیں، یہی درس اسلام بھی ہے اور قومی حمیت کا تقاضا بھی۔ اس وقت دنیا بھر کے مسلمان زوال و بربادی کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجہ حق کی خاطر مشترکہ سعی کی ضرورت کو نظر انداز کرنا ہے۔

.......

/169